ایران کو نیا سپریم لیڈر مل گیا ہے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب ہوگئے ہیں اور سپریم لیڈر کے انتخاب کیلئے قائم کمیٹی نے انکے نام کی منظوری دیدی ہے تاہم اس خبر کی تاحال ایرانی سرکاری حلقوں کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے، رپورٹس میں کہا گیا ہے یہ فیصلہ ایران کی مذہبی و سیاسی قیادت کے اندرونی مشاورتی عمل کے بعد سامنے آیا ہے لیکن سرکاری ذرائع خاموش ہیں جس کے باعث صورتحال غیر واضح ہے۔
ایرانی میڈیا نے کہاہے کہ نئے سپریم لیڈر کی نامزدگی کیلئے اجلاس جاری ہے، پاسداران انقلاب نے کہاہے کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں تقریباً ایک ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے، ایران کی سرکاری میڈیا کے مطابق نئے سپریم لیڈر کا باضابطہ اعلان آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کے بعد ہوگا۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق ملک کے موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے انتظامات طے کر لئے گئے ہیں، تہران میں تعزیتی اجتماع امام خمینی حسینیہ میں منعقد ہوگا جس کے بعد تدفین مشہد میں کی جائیگی جہاں بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت متوقع ہے۔
میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای ایرانی سیاستدان اور عالم دین ہیں، وہ علی خامنہ ای کے دوسرے صاحبزادے ہیں، انہوں نے ایران عراق جنگ میں حصہ لیا، 2009کے صدارتی انتخابات کے بعد مظاہروں کو دبانے کیلئے استعمال ہونیوالی فورس پر بھی اثر و رسوخ رکھتے تھے، انہیں اپنے والد کے سب سے بااثر بیٹے اور ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای 1969میں مشہد میں پیدا ہوئے اور اپنے بچپن کے سات سال ایران کے شمال مغربی شہروں سردشت اور مہاباد میں گزارے، انہوں نے 2004میں زہرہ حداد عادل سے شادی کی، سیاسی طور پر وہ سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے حامی سمجھے جاتے ہیں، 2019میں مجتبی خامنہ ای پر امریکا کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئیں۔




