بیجنگ (شِنہوا) چین میں کسانوں کی آمدنی میں اضافے کی کوششوں کے نتیجے میں حالیہ برسوں کے دوران شہری اور دیہی آمدنی کے فرق میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
سنٹرل رورل ورک لیڈنگ گروپ کے دفتر کے سربراہ ہان وین شیو نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ شہری و دیہی آمدنی کا تناسب 2025 میں کم ہو کر 2.31:1 رہ گیا ہے جو 2020 میں 2.56:1 تھا۔
انہوں نے کہا کہ 2025 میں کسانوں کی فی کس قابل تصرف آمدنی 24 ہزار 456 یوآن (تقریباً 3 ہزار 517 امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 6 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہے اور اس کے ساتھ کسانوں کے بنیادی معیار زندگی میں مسلسل بہتری بھی آئی ہے۔
یہ بیان چین کی جانب سے سالانہ ’’نمبر 1 مرکزی دستاویز‘‘ کے اجرا کے بعد سامنے آیا جس میں 2026 کے لئے زرعی اور دیہی جدیدیت کو آگے بڑھانے اور ہمہ جہت دیہی احیا کو فروغ دینے کے اہم اہداف طے کئے گئے ہیں۔




