تائی یوآن (شِنہوا) چین کے شمالی صوبہ شنشی میں چونے کے پتھر کی ایک کان میں کئی مکمل برقی خود کار ٹرک رواں دواں ہیں۔ ان ٹرکوں کے خالی کیبن چین کی جانب سے سمارٹ اور کم کاربن والی کان کنی کی جانب پیش قدمی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
یانگ چھوان جی ڈونگ سیمنٹ کمپنی کے زیر انتظام اس کان نے 2020 سے اب تک سمارٹ مائن منصوبوں پر 6 کروڑ یوآن (تقریباً 86 لاکھ 20 ہزار امریکی ڈالر) خرچ کئے ہیں۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد آٹومیشن، ڈیجیٹل سسٹمز اور سمارٹ آپریشنز کو متعارف کروا کر حفاظت اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
کمپنی کے مائن آپریشنز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ لی یانگ یانگ نے کہا کہ ہماری سمارٹ مائن کی سب سے بڑی خصوصیت الیکٹرک مائننگ ٹرکوں کا خود کار ڈرائیونگ سسٹم ہے۔ اس وقت کان میں 8 خود کار الیکٹرک ٹرک کام کر رہے ہیں اور فائیو جی ٹیکنالوجی کی مدد سے نقل و حمل کا یہ سارا عمل مکمل طور پر انسانی مداخلت کے بغیر انجام پاتا ہے۔
لی یانگ یانگ نے مزید بتایا کہ روایتی ٹرکوں کے مقابلے میں خود کار الیکٹرک گاڑیاں نہ صرف حفاظتی خطرات اور زہریلی گیسوں کے اخراج کو کم کرتی ہیں بلکہ ان کے چلانے کے اخراجات بھی کم کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فائیو جی نیٹ ورکس اور ذہین ترسیلی نظام کے ساتھ مل کر یہ ٹرک درست ہم آہنگی کے ساتھ مسلسل کام کر سکتے ہیں جس سے ٹرانسپورٹ کی کارکردگی اور وسائل کا استعمال بہتر ہوتا ہے۔




