آسٹریلیا کے ماہر تاریخ جان کوئرِیپل کا کہنا ہے کہ چین کی پیش کردہ عالمی حکمرانی کی پہل (جی جی آئی) بین الاقوامی نظام کے لئے انتہائی اہم ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): جان کوئرِیپل، آسٹریلوی مورخ، لکھاری اور سماجی مبصر
"عالمی حکمرانی کی پہل اس لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس کے بغیر دنیا صرف ‘جنگل کے قانون’ کے تحت چلتی رہے گی۔”
چین نے سال 2025 میں ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی حکمرانی کے نظام کو فروغ دینے کے لئے جی جی آئی کی تجویز پیش کی تھی تاکہ ایک مشترکہ مستقبل پر مبنی انسانی معاشرے کے قیام کے لئے مل کر کام کیا جائے ۔
اس کے بنیادی تصورات میں خودمختاری اور برابری، عالمی سطح پر قانون کی عملداری، کثیرالجہتی تعاون، عوامی مسائل پر مرکوز پالیسی اور عملی نتائج پر زور شامل ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): جان کوئرِیپل، آسٹریلوی مورخ، لکھاری اور سماجی مبصر
"عالمی حکمرانی کی پہل ایک ابتدائی منصوبہ ہے اور یہ بنیادی طور پر وہی اصول بیان کرتا ہے جو اقوامِ متحدہ طویل عرصے سے کہہ رہی ہے۔ ہمیں عالمی سطح پر حکمرانی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس نظام کی طرف واپس جانا ہے جو پہلے سے قائم تھا۔”
قدیم چینی فوجی حکمت عملی کے ماہر سون زُو کی کتاب "آرٹ آف وار” کے نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے جان کوئرِیپل نے کہا کہ جنگ جاری رکھنے کے بجائے "دو طرفہ فائدے پر مبنی حل” زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): جان کوئرِیپل، آسٹریلوی مورخ، لکھاری اور سماجی مبصر
"ہمارے خطے میں بہت چھوٹی چھوٹی ریاستیں موجود ہیں۔ ان ممالک کو یہ حق ہونا چاہئے کہ انہیں بھی مذاکرات کی میز پر اپنی نشست ملے۔ اس طرح وہ وہ خود کو محفوظ سمجھیں گی کیونکہ وہ خود اپنا دفاع نہیں کر سکتیں۔
بین الاقوامی نظام سے مراد امریکہ یا طاقتور ممالک کا قائم کردہ نظام نہیں بلکہ یہ وہ نظام ہے جو اقوامِ متحدہ کا تشکیل دیا ہوا ہے۔
چینی فلسفے میں ایک مکمل نظریہ موجود ہے۔ خصوصاً سون زُو کی کتاب ’’آرٹ آف وار‘‘ میں یہ تصور پیش کیا گیاہے کہ سب سے بہترین جنگ وہ ہے جو لڑی ہی نہ جائے۔ آپ کو جنگ میں جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ مسائل کو بات چیت اور دیگر طریقوں سے حل کریں۔ فوجی طاقت کی اپنی حدود ہیں۔ اس کے مقابلے میں معاشی تعاون پر مبنی حکمتِ عملی کہیں زیادہ مؤثر ہوتی ہے کیونکہ اس میں سب کا فائدہ ہے۔ چین اکثر اسی حکمت عملی کی بات کرتا ہے۔یہ بات منطقی ہے۔ "
نیوکاسل، آسٹریلیا سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن اسکرین:
چین کی تجویز کردہ عالمی حکمرانی کی پہل مستحکم عالمی نظام کے لئےاہم ہے
آسٹریلوی ماہر تاریخ جان کوئرِیپل نے چینی تجویز کو اہمیت کا حامل قرار دیا
عالمی حکمرانی کے بغیر دنیا ‘جنگل کے قانون’ کے تحت ہوگی
کوئرِیپل کے مطابق چین منصفانہ عالمی نظام کا فروغ چاہتا ہے
خودمختاری، برابری، قانون کی حکمرانی اور کثیرالجہتی تعاون کے اصول اپنائے جائیں
تاریخی ماہر نےعوامی مسائل کے حل پر مرکوز پالیسی کو ناگزیر قرار دیا
عالمی حکمرانی کا چینی تصور اقوامِ متحدہ کے اصولوں کا اعادہ ہے
چین جنگ سے بچنے کی حکمت بیان کو ترجیح دیتا ہے
معاشی تعاون اور دو طرفہ فائدے پر مبنی حل زیادہ مؤثر ہیں
چھوٹی ریاستوں کو مذاکرات کی میز پر جگہ ملنی چاہئے




