منگل, فروری 3, 2026
پاکستانپاکستان ماضی میں عالمی بینکوں کیلئے ایک اہم مارکیٹ رہا ہے، وزیر...

پاکستان ماضی میں عالمی بینکوں کیلئے ایک اہم مارکیٹ رہا ہے، وزیر خزانہ

وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے عالمی مالیاتی اداروں کی موجودگی اور اعلیٰ قیادت کی شمولیت کو پاکستان کیساتھ اعتماد سازی اور رفتار پیدا کرنے کیلئے نہایت اہم قرار دیا ہے۔

وزارت خزانہ میں سٹی بینک کے اعلیٰ سطحی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان ماضی میں عالمی بینکوں کیلئے ایک اہم مارکیٹ رہا ہے اور اس ورثہ کو مستحکم، مسلسل اور اصلاحات سے ہم آہنگ تعاون کے ذریعے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ملاقات میں خودمختار مالیاتی انتظامات، عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی موجودگی اور مستقبل میں تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

بینک کے وفد کی قیادت کنٹری آفیسر حبیب یوسف نے کی، انکے ہمراہ کارپوریٹ بینکنگ کے سربراہ علی ثنا رضوی اور نائب صدر اسامہ پراچہ بھی موجود تھے۔

ملاقات میں وزارتِ خزانہ کی وہ کور ٹیم بھی شریک تھی جو قرضہ مینجمنٹ، کیپیٹل مارکیٹس اور متعلقہ پالیسی امور کی نگرانی کرتی ہے۔

وزارتِ خزانہ کی ٹیم نے موجودہ عالمی مالیاتی حالات اور پاکستان کی بیرونی فنانسنگ سے متعلق مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی۔

ملاقات میں پاکستان کے بین الاقوامی بانڈز کی حالیہ کارکردگی، بیرونی قرضہ جات سے متعلق حکومتی حکمتِ عملی، مارکیٹ ٹائمنگ اور قیمتوں کے تعین جیسے اہم پہلوؤں پر بات کی گئی اور زور دیا گیا کہ مستقبل کی کسی بھی مالیاتی سرگرمی کو قرضوں کے پائیدار انتظام اور کم لاگت کے حکومتی اہداف سے ہم آہنگ ہونا چاہئے، وفد کو آگاہ کیا گیا کہ حکومت خودمختار فنانسنگ پروگرامز پر پیشگی تیاری کر رہی ہے جن میں مڈ ٹرم نوٹ سٹرکچرز سے متعلق ابتدائی کام شامل ہے تاہم فوری توجہ اسوقت جاری ترجیحی مالیاتی معاملات کی تکمیل پر مرکوز ہے، ضروری داخلی منظوریوں اور ساختی بنیادوں پر کام مکمل کیا جا چکا ہے اور مناسب مارکیٹ حالات اور قیمتوں کے تناظر میں عالمی منڈی سے رجوع کرنے پر غور کیا جائیگا۔

ملاقات میں سرمایہ کاروں سے رابطہ کاری کی حکمت عملی پر بھی بات ہوئی۔

وزارتِ خزانہ نے زور دیا کہ غیر فعال سرمایہ کاری کے بجائے فعال اور ہدفی سرمایہ کار شمولیت کو فروغ دینا حکومتی ترجیح ہے، طویل المدتی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کیساتھ براہِ راست روابط، نجی پلیسمنٹس اور موثر آٹ ریچ نہایت اہم ہیں وزارتِ خزانہ کی ٹیم نے نشاندہی کی کہ سٹی بینک کی عالمی مہارت کوسٹرکچرڈ پروگرامز، دستاویزی فریم ورک اور مارکیٹ انفرا اسٹرکچر جیسے شعبوں میں موثر طور پر بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر زور دیا گیا کہ پیچیدہ مالیاتی لین دین سے قبل بنیادی قانونی اور دستاویزی ڈھانچے کا قیام ناگزیر ہے، تجارت اور ہیجنگ سے متعلق ممکنہ مالیاتی سٹرکچرز پر بھی تبادلہ خیال ہوا تاہم واضح کیا گیا کہ ان آپشنز پر غور مناسب دستاویزات اور قیمتوں کے تعین کے بعد ہی کیا جائیگا۔

فریقین نے رابطے جاری رکھنے اور باہمی تعاون کے مزید امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔

وزارتِ خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان اپنی مجموعی فنانسنگ حکمت عملی اور اقتصادی اہداف کے تحت تعمیری شراکت داری کیلئے تیار ہے۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!