وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وزارتِ خزانہ این ایف سی اور دیگر متعلقہ مدات کے تحت خیبر پختونخوا کے جائز مالی مطالبات کے حصول میں مکمل تعاون فراہم کریگی تاہم تمام اقدامات طے شدہ طریقہ کار، قواعد و ضوابط اور شفاف عمل کے مطابق ہونگے۔
یہ یقین دہانی انہوں نے وزارتِ خزانہ میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم سے گفتگو کرتے ہوئے کروائی۔
ملاقات کے دوران مالی اور ترقیاتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جن میں بالخصوص ضم شدہ اضلاع کیلئے ترقیاتی مدات کے تحت فنڈز کی بروقت فراہمی، عارضی طور پر بے گھر ہونیوالے افراد کی بحالی سے متعلق واجبات، اور قومی مالیاتی کمیشن سمیت صوبائی حصص و الاٹمنٹس کے معاملات شامل تھے۔
خیبر پختونخوا کے وفد نے ضم شدہ اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی ضروریات پر روشنی ڈالتے ہوئے زور دیا کہ فنڈز کی بروقت فراہمی نہایت اہم ہے تاکہ زمینی سطح پر جاری سکیموں کو موثر انداز میں جاری رکھا جا سکے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے وفد کے نکات بغور سنے اور وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں کیساتھ تعاون، باہمی مشاورت اور مضبوط وفاقی ہم آہنگی کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فنڈز کے شفاف اور ہموار اجرا کیلئے بروقت اکائونٹس کی مفاہمت اور موثر رابطہ ناگزیر ہے، وفاقی حکومت خیبر پختونخوا خصوصا ضم شدہ اضلاع کو درپیش ترقیاتی اور سیکیورٹی چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہے۔
ملاقات میں این ایف سی سے متعلق جاری مشاورت اور تکنیکی سطح پر ہونیوالی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ ذیلی کمیٹیوں اور تکنیکی فورمز پر رابطے کا تسلسل برقرار رکھا جائے تاکہ اہم معاملات پر اتفاقِ رائے کو آگے بڑھایا جا سکے۔
فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باہمی رابطہ اور تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائیگا تاکہ زیر التوا امور کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے اور مالی انتظامات ترقی، عوامی خدمات اور استحکام کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوں۔
ملاقات میں قومی مفاد میں مسائل کے بروقت حل کیلئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا ہے۔




