روسی ایوان صدر نے روس، یوکرین اور امریکا کے درمیان ہونیوالے سہ فریقی مذاکرات کے موخر ہونے کی وجہ واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ تینوں فریقین کے شیڈول میں ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث مذاکرات کو موخر کیا گیا ہے۔
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف کے مطابق مذاکرات اتوار کو ہونے تھے تاہم اب یہ ملاقات بدھ اور جمعرات کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ہوگی جبکہ مذاکرات کے انعقاد کی اب باضابطہ تصدیق کر دی گئی ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی پہلے ہی اعلان کر چکے تھے کہ یہ مذاکرات 4 اور 5 فروری کو ہونگے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ علاقائی تنازعات اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں، روس اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی بھی امن معاہدے میں نئے زمینی حقائق کو تسلیم کیا جانا ضروری ہے۔
دوسری جانب یوکرینی قیادت کسی قسم کی علاقائی رعایت کو مسترد کرتی رہی ہے۔
روس کا موقف ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو اپنے اہداف کے حصول کیلئے دیگر راستے بھی اختیار کئے جا سکتے ہیں تاہم ماسکو اب بھی سیاسی حل کو ترجیح دینے کی بات کرتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ابوظہبی میں ہونیوالا یہ دوسرا دور مستقبل کی سفارتی سمت کے تعین میں اہم ثابت ہو سکتا ہے تاہم اختلافات کی گہرائی کو دیکھتے ہوئے کسی فوری پیشرفت کی توقع کم ہے۔




