بوداپست (شِنہوا) چین اور ہنگری کے درمیان موسیقی کی مشترکہ افتتاحی تقریب بوداپست میں منعقد ہوئی، جہاں "دی نیو فور سیزنز آف ہنگری اینڈ چائنہ کنسرٹ” کے یورپی دورے کا آغاز لزٹ اکیڈمی آف میوزک میں کیا گیا۔
پروگرام میں ہنگری کے موسیقار پیٹر اسٹیفن کی تخلیق "ہنگری کے چارموسم” اور چینی موسیقار وین زی یانگ کی تخلیق "چین کے چار موسم” پیش کی گئی۔
ہنگری کے پیانو نواز گیرگیلی کوواکس نے اسٹیفن کی پیانو کمپوزیشن پیش کی، جس میں ہنگری کی 50 سے زائد لوک دھنوں کو شامل کیا گیا جو بدلتے ہوئے موسموں کے مناظر کی عکاسی کرتی ہے۔
چینی وائلن نواز لو سی چھنگ نے چین-ہنگری چیمبر آرکسٹرا کی قیادت کرتے ہوئے وین زی یانگ کی کمپوزیشن "چین کے چار موسم” پیش کی جو چین کے روایتی 24 شمسی موسموں سے متاثر ہو کر تخلیق کی گئی۔
اگرچہ یہ دونوں تخلیقات مختلف ثقافتی پس منظر میں تیار کی گئی ہیں تاہم دونوں میں وقت اور موسموں کی تبدیلی کے بارے میں مشترکہ فہم کی جھلک نظر آتی ہے۔
پیٹر اسٹیفن نے شِنہوا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ لمحہ ہے جب ہم فن کی طاقت کے ذریعے متحد ہو رہے ہیں۔
کوواکس نے کہا کہ انہیں چینی موسیقاروں کے ساتھ ایک ہی سٹیج پر پرفارم کرنا اعزاز محسوس ہو رہا ہے۔ انہوں نے حاضرین کو دعوت دی کہ وہ دونوں کمپوزیشنز میں موجود مماثلتوں اور فرق کو محسوس کریں تاکہ اس "اشتراک” سے بھرپور لطف اٹھایا جا سکے۔
بوداپست کے بعد موسیقی کا یہ پروگرام بلغاریہ، جرمنی، اٹلی اور سوئٹزرلینڈ میں بھی منعقد کیا جائے گا۔




