اتوار, فروری 1, 2026
تازہ ترینچین کا کھرب یوآن جی ڈی پی کلب 29 شہروں تک پھیل...

چین کا کھرب یوآن جی ڈی پی کلب 29 شہروں تک پھیل گیا، معاشی استحکام اور مضبوطی نمایاں

عالمی سطح پرغیر یقینی صورتحال اور اندرون ملک مشکلات کے باوجود سال 2025 میں چین کے مزید شہروں اور صوبوں نے مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے اہم سنگ میل عبور کئے ہیں۔یہ پیشرفت ملک کی اعلیٰ معیار کی علاقائی ترقی اور اقتصادی لچک کو واضح کرتی ہے۔

گزشتہ برس چین کی معیشت سالانہ 5 فیصد کی شرح سے بڑھی اور  1400 کھرب  یوآن (تقریباً 200 کھرب امریکی ڈالر) سے تجاوز کر گئی۔ جدت پر مبنی تبدیلی اور علاقائی ترقی کے باعث وینژو اور دالیان حال ہی میں چین کے کھرب یوآن جی ڈی پی کلب کا حصہ بنے ہیں جس کے ساتھ ہی ایسے شہروں کی مجموعی تعداد 29 تک پہنچ گئی۔

گزشتہ برس کئی بڑی صوبائی معیشتوں نے بھی جی ڈی پی کے اہم سنگ میل عبور کئے۔ اس طرح یہ صوبے چین کی معیشت میں استحکام اور نمو کے اہم محرک کے طور پر اپنی حیثیت کو مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ معیشت کی لچک اور اعلیٰ معیار کی ترقی کو بھی واضح کرتے ہیں۔

سال 2006 میں مشرقی شہر شنگھائی چین کے مین لینڈ کا وہ پہلا شہر تھا جس کی جی ڈی پی نے دس کھرب یوآن سے تجاوز کیا۔ اس کے بعد سے یہ کلب مسلسل پھیل رہا ہے جس میں اب ملک کے مشرقی ساحل سے لے کر مغرب تک چار میونسپلٹیز، 11 صوبائی دارالحکومت اور 14 دیگر بڑے شہر شامل ہیں ۔

ان میں سے 10 شہر چین کے سب سے زیادہ متحرک اقتصادی علاقے دریائے یانگسی  کے ڈیلٹا میں واقع ہیں جو  شنگھائی سے جیانگسو، ژےجیانگ اور انہوئی صوبے تک  کے علاقے تک پھیلے ہوئے ہیں۔

سال 2025 میں شنگھائی کی جی ڈی پی 56.7 کھرب یوآن تک پہنچ گئی جبکہ بیجنگ کی جی ڈی پی نے پہلی بار 50 کھرب یوآن سے تجاوز کیا ہے۔

صوبوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو گوانگ ڈونگ اور جیانگسو کے بعد  چین کا مشرقی صوبہ شان ڈونگ وہ تیسرا خطہ بن گیا ہے جس کی جی ڈی پی نے گزشتہ برس 100  کھرب یوآن سے تجاوز کرتے ہوئے  5.5 فیصد نمو دکھائی۔

صوبہ انہوئی جو کبھی ایک روایتی زرعی مرکز ہوا کرتا  تھا اب ٹیکنالوجی اور اعلیٰ درجے کی مینوفیکچرنگ کا مرکز بن چکا ہے۔ سال 2025 میں اس نے بھی مستحکم کارکردگی دکھائی۔ گزشتہ برس اس کی جی ڈی پی 5.5 فیصد اضافے کے ساتھ  53 کھرب یوآن تک پہنچ گئی۔

زیادہ تر بڑی صوبائی معیشتوں نے سال 2025 میں قومی اوسط شرح نمو سے بہتر کارکردگی دکھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس سے چین کی اقتصادی بنیادیں مستحکم ہوئیں اور مجموعی اقتصادی ترقی کو مزید رفتار ملی۔

بیجنگ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

چین میں کھرب یوآن جی ڈی پی رکھنے والے شہروں کی تعداد 29 ہو گئی

کھرب یوآن جی ڈی پی کلب چین کی معاشی مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے

مزید دو  شہر وینژو اور دالیان حال ہی میں کلب کے ممبر بنے ہیں

شنگھائی کا جی ڈی پی سال 2025 میں 56.7 کھرب یوآن تک پہنچ گیا

بیجنگ کا جی ڈی پی پہلی بار کو پہلی بار 50 کھرب یوآن سے متجاوز

دریائے یانگسی کے ڈیلٹا کے 10 شہر کھرب یوآن جی ڈی پی کلب میں شامل

شان ڈونگ 10 کھرب یوآن جی ڈی پی عبور کرنے والا تیسرا صوبہ بن گیا

صوبہ انہوئی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ درجے کی مینوفیکچرنگ کا ابھرتا مرکز ہے

انہوئی کی معیشت گزشتہ برس 5.5 فیصد کی مضبوط شرح سے بڑھی

بیشتر صوبائی معیشتوں کی شرح نمو قومی اوسط سے زیادہ رہی

کھرب یوآن جی ڈی پی والے شہر چین کی مجموعی معاشی ترقی کا سہارا بنے

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!