شنگھائی (شِنہوا) برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے شنگھائی کے دورے کے موقع پر اقوام کے درمیان باہمی اعتماد اور احترام کے فروغ کے لئے روابط کی بے حد اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے چینی مڈل سکول کے طلبہ کے ساتھ تبادلہ خیال کے ایک سیشن میں شرکت کی، جس کے دوران انہوں نے چینی تمثیل ’’اندھے آدمی اور ہاتھی‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی کہ چین کو ایک مکمل صورت میں سمجھنا کیوں ضروری ہے۔
اس تمثیل میں چند نابینا آدمی ہاتھی کے مختلف حصوں کو چھوتے ہیں اور ہر ایک اپنی الگ رائے قائم کرتا ہے۔ کوئی سونڈ کو چھو کر اسے سانپ سمجھتا ہے، کوئی ٹانگ کو چھو کر اسے ستون قرار دیتا ہے جبکہ تیسرا پیٹ کو چھو کر اسے دیوار سمجھتا ہے۔
سٹارمر نے کہا کہ یہ اس بات کو واضح کرنے کا ایک نہایت موثر طریقہ ہے کہ اس طرح کے دورے اتنے اہم کیوں ہوتے ہیں۔
انہوں نے صدیوں پرانے یویوآن گارڈن کا دورہ کیا۔ اس تاریخی مقام پر وزیراعظم ان لالٹینوں سے بے حد متاثر ہوئے جن میں تخلیقی انداز میں چینی اور برطانوی ثقافتی عناصر کو یکجا کیا گیا تھا، جن میں لندن کا دریائے ٹیمز اور شنگھائی کا دریائے ہوانگ پو، سکاٹ لینڈ کا ٹارٹن ڈیزائن اور آمدہ نئے چینی سال کے لئے گھوڑے کا نقش شامل تھا۔
یہ گزشتہ 8 برسوں میں کسی برطانوی وزیراعظم کا چین کا پہلا دورہ ہے۔ شنگھائی سٹارمر کے 4 روزہ دور چین میں بیجنگ کے بعد دوسرا پڑاؤ تھا۔
سٹارمر نے کہا کہ مجھے اس بات پر مکمل یقین ہے کہ جتنا زیادہ ہم باہمی روابط بڑھائیں گے، اتنا ہی زیادہ باہمی اعتماد اور احترام استوار ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہی وہ بنیاد ہے جہاں ایک روشن مستقبل اور بڑے مواقع پوشیدہ ہیں۔




