ہفتہ, جنوری 10, 2026
پاکستانچینی سرجن نے پاکستان میں جراحی کا جدید طریقہ متعارف کرادیا

چینی سرجن نے پاکستان میں جراحی کا جدید طریقہ متعارف کرادیا

گوانگ ژو (شِنہوا)ایک چینی سرجن نے کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر میں دو مریضوں کی کامیاب سرجری انجام دی، جو چھاتی کے ڈھانچے کے شدید اور ماضی میں مشکل سمجھے جانے والے نقائص میں مبتلا تھے۔

چین میں تیار کردہ ان کی جدید جراحی کی  تکنیک نے اس عمل کا مشاہدہ کرنے والے مقامی ڈاکٹروں پر گہرا اثر چھوڑا۔

چین کے جنوبی شہر گوانگ ژو میں گوانگ ڈونگ سیکنڈ پراونشل جنرل ہسپتال کے چیسٹ وال سرجری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر وانگ وین لین چھاتی کے ڈھانچے کے نقائص مثلاً پیکٹس ایکسکویٹم یا فنل چیسٹ کی اصلاح میں مہارت رکھتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں متعدد ممالک کے سرجن چین آ کر ان کا طریقہ علاج سیکھ چکے ہیں جبکہ وانگ کو بین الاقوامی سطح پر اپنی تکنیکیں سکھانے کے لئے مدعو بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 سے 6 جنوری تک پاکستان کے دورے میں وانگ نے کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر میں لیکچرز دیئے اور جراحی کے مظاہرے کئے۔ وہ مقامی طبی ماہرین کے ساتھ مزید تعلیمی تبادلوں کے لئے لاہور جانے والے ہیں۔

سنٹر کے شعبہ کارڈیو تھوراسک سرجری کے سربراہ تنویر احمد نے کہا کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ آج پروفیسر وانگ ہمارے ساتھ موجود ہیں اور انہوں نے 2 نہایت پیچیدہ نقائص  کی سرجریاں انجام دیں۔ ہر کوئی ان کے آپریشن کے طریقے کی تعریف کر رہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ان کی مدد سے ہم اپنی مہارت کو مزید ترقی دے سکیں گے۔

وانگ نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹر جدید طبی ٹیکنالوجیز سیکھنے اور انہیں اپنانے کے لئے بے حد پرجوش ہیں جن میں سے کئی خاص طور پر دیگر علاقوں سے اس تربیت میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ چین میں تیار کی گئی جراحی کی یہ اصل تکنیک مقامی سطح پر مزید مریضوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

وانگ وین لین نے وضاحت کی کہ یہ بیماریاں نہ صرف دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں بلکہ اکثر مریضوں میں خود اعتمادی میں کمی جیسے نفسیاتی مسائل بھی پیدا کرتی ہیں۔ دل اور پھیپھڑوں کے انتہائی قریب ہونے کے باعث چھاتی کی ہڈی کی جراہی نہایت پیچیدہ ہوتی ہے جبکہ مریضوں میں ہڈیوں کی ساخت میں قدرتی فرق بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ جراحی میں معمولی سی غلطی بھی خصوصاً شیر خوار بچوں، کم عمر بچوں اور شدید نوعیت کے کیسز میں اہم اعضاء کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

2008 سے اب تک وانگ نے جراحی کے متعدد اصل طریقے متعارف کرائے ہیں جن میں ان کے نام سے منسوب "وانگ طریقہ” بھی شامل ہے جو ’لفٹ اور فکس‘ کرنے کی تکنیکوں کے ذریعے دھنسی ہوئی چھاتی کو نئی شکل دیتا ہے اور پیکٹس ایکسکویٹم کے علاج کے لئے ایک نیا راستہ فراہم کرتا ہے۔

گوانگ ژو میں اپنے ہسپتال میں وانگ اور ان کی ٹیم بے شمار پیچیدہ کیسز کو کامیابی سے سنبھالتے ہوئے دنیا بھر سے آنے والے مریضوں کی جراحی  کر چکی ہے۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!