پیر, جنوری 12, 2026
انٹرنیشنلعوامی جمہوریہ کوریا کے حکام نے جنوبی کوریا سے ڈرون واقعے کی...

عوامی جمہوریہ کوریا کے حکام نے جنوبی کوریا سے ڈرون واقعے کی وضاحت طلب کرلی

پیانگ یانگ (شِنہوا) عوامی جمہوریہ کوریا (ڈی پی آر کے) کی ایک اعلیٰ عہدیدار نے جنوبی کوریا پر زور دیا ہے کہ وہ ڈی پی آر کے کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ڈرون کے بارے میں تفصیلی وضاحت پیش کرے۔

سرکاری خبر رساں ادارے، کورین سنٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے ) کے مطابق کم یو جونگ جو کہ ورکرز پارٹی آف کوریا کی مرکزی کمیٹی کی نائب ڈیپارٹمنٹ ڈائریکٹر ہیں نے، یہ بات ایک پریس ریلیز میں کہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈی پی آر کے کی عہدیدار نے جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے اس اعلان کی تعریف کی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ ڈی پی آر کے کو کبھی اشتعال دلانے کی کوشش نہیں کرے گا، انہوں نے اسے "عقلمندانہ فیصلہ” قرار دیا۔

کم نے کہا کہ اس ڈرون کے اصل معاملے کے بارے میں تفصیلی وضاحت دی جانی چاہیے جس نے ہماری جمہوریہ کی جنوبی سرحد عبور کی۔

انہوں نے مزید تنقید کی کہ جنوبی کوریا میں اس واقعے کو "سول معاملہ ” کے طور پر کم اہم دکھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ حالیہ ڈرون  فوجی ہے یا شہری ذرائع سے آیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈرون کے ذریعے حاصل شدہ ویڈیو ڈیٹا حساس مقامات سے متعلق تھا، جن میں یورینیم کان اور اس کا تالاب، سابقہ کایسونگ صنعتی زون اور عوامی جمہوریہ کوریا کی سرحدی چوکیاں شامل ہیں۔

کم نے موقف اختیار کیا چاہے اس کارروائی کا مرتکب کوئی بھی ہو یا یہ کسی سول ادارے یا فرد نے کیا ہو، قومی سلامتی کے ذمہ دار (جنوبی کوریا) حکام کبھی اس کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے۔

کے سی این اے کے مطابق یہ واقعہ 4 جنوری کو پیش آیا۔ اس کے جواب میں جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے اور فوجی اور پولیس ٹیموں کو تفصیلات کی تصدیق کرنے کی ہدایت دی۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے ملوث ہونے سے انکار کیا ہے اور کہا کہ متعلقہ تاریخوں میں کوئی فوجی ڈرون نہیں اڑایا گیا تھا اور یہ ڈرون جنوبی کوریا کی افواج کے استعمال شدہ کسی بھی ماڈل سے میل نہیں کھاتا۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!