ہفتہ, دسمبر 6, 2025
انٹرنیشنلچین عالمی ترقی میں ایک مستحکم، اختراعی اور ذمہ دار قوت ہے،...

چین عالمی ترقی میں ایک مستحکم، اختراعی اور ذمہ دار قوت ہے، ایتھوپین دانشور

ادیس ابابا(شِنہوا)ایتھوپیا کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر عدم استحکام کے باوجود چین نے گزشتہ پانچ برسوں میں معاشی لچک، ماحول دوست ترقی، کھلے پن اور سماجی فلاح و بہبود کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے، جس سے وہ عالمی ترقی میں ایک مستحکم، اختراعی اور ذمہ دار قوت کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کر چکا ہے۔

ایتھوپیا کے پالیسی سٹڈیز انسٹیٹیوٹ کے سینئر مشیر بالیو دمیسے نے کہا کہ وبا، تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور تجارتی کشیدگی جیسے عالمی بحرانوں کے باوجود چین نے اپنی 14ویں پانچ سالہ منصوبہ (2021-2025) میں طے کردہ ترقی، جدت، شہری ترقی اور بڑے منصوبوں کے اہداف کے حصول میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔

حکومتی کارکردگی رپورٹ کے مطابق 2024 میں چین کی مجموعی قومی پیداوار بڑھ کر 1349 کھرب یوآن (تقریباً 189.5 کھرب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کےمقابلے میں 5 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ چین دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور عالمی اقتصادی ترقی میں تقریباً 30 فیصد حصہ ڈال رہا ہے۔

دمیسے نے کہا کہ جدت چین کی ترقی کے لئے ایک اہم محرک کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ چین کے قومی ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق 2024 میں تحقیق و ترقی پر ہونے والے اخراجات چین کی مجموعی قومی پیداوار کا 2.68 فیصد تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ چین اب بھی دنیا کا ایک بڑا صنعتی مرکز ہے تاہم اس کی توجہ اب برقی گاڑیوں، روبوٹکس، فائیو جی ٹیکنالوجی اور قابل تجدید توانائی کے آلات سمیت جدید اور سمارٹ صنعتوں پر مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک فائدہ مند مستقبل کے لئے چین میں سرمایہ کاری عالمی سرمایہ کاروں کے درمیان ایک عام اتفاق رائے بن چکی ہے۔ غیر ملکی اداروں نے بدلے میں چین کی تجارت، صنعت، ٹیکس اور روزگار میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومی ترقی کو برقرار رکھنے کے لئے مستقل وژن، مطابقت پذیر حکمت عملی اور موثر نفاذ ضروری ہے۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!