مسلم لیگ ن کے سینیٹر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ بھارت کیساتھ جنگ کے بعد فوجی کمانڈ سٹرکچر میں تبدیلی ضروری تھی، اس میں سیاسی بحث مباحثے والی بات نہیں، آئینی عدالت کا تصور چارٹر آف ڈیموکریسی کے تحت پیش کیا گیا، عوامی اہمیت کے حامل مسائل پر بات چیت کا آغاز ہوچکا ،جیسے جیسے اتفاق رائے ہوگا ترامیم ہوتی رہیں گی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 27 ویں ترمیم کے معاملے پر اتحادیوں سے رہنمائی لی، ہم نے انہیں دعوت دی وہ تشریف لے آئے، ان کے سامنے ہر چیز رکھی اور تجاویز لیں، اس بنیاد پر کچھ تبدیلی بھی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی یا اپوزیشن کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بیٹھنے کو تیار ہی نہیں، وزیراعظم نے یومِ آزادی پر انہیں پیشکش کی کہ آئیں میثاقِ استحکام پاکستان کریں، انہیں آفر کی کہ پاکستان کے مسائل پر بات کریں، ان کے حل کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں مگر ان کا رویہ یہی رہا۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں ان کو تین بار بیٹھنے اور ڈائیلاگ کرنے کی پیشکش کی، سٹینڈنگ کمیٹیوں میں ان کا استحقاق ہے کہ نمائندگی کریں لیکن وہ وہاں سے بھی مستعفی ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے پیپلز پارٹی کیساتھ مل کر چارٹر آف ڈیموکریسی بنایا تھا، اس میں آئینی عدالتوں کا ذکر تھا، 26ویں ترمیم میں آئینی عدالت کا معاملہ رک گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ ہونیوالی جنگ سے ہمیں بہت سی باتیں سیکھنے کو ملیں اس کے مطابق فوج کے انٹرنل کمانڈ اسٹرکچر میں تبدیلی کی گئی جو ضروری تھی یہ بالکل پروفیشنل معاملہ ہے اس میں کوئی سیاسی بحث مباحثے کی بات نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تعلیم، صحت، ہیلتھ، آبادی، بلدیات سے متعلق اتفاق رائے نہیں ہوسکا، لوکل باڈی کے اوپر کوشش بھی کی گئی کہ اس بار کچھ نہ کچھ پیشرفت ہو، بنیادی اور عوامی اہمیت کے حامل ان مسائل پر بات چیت کا آغاز ہوچکا ہے، جیسے جیسے اتفاق رائے ہوتا رہے گا ان میں ترامیم ہوتی رہیں گی۔




