افغانستان کے صوبے کنڑ کے ایک ہسپتال میں زلزلے میں زخمی ہونے والے شخص کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔(شِنہوا)
بیجنگ(شِنہوا)چینی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ چین اس مشکل وقت سے نمٹنے کے لئے افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور جلد ازجلد زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان فراہم کرے گا۔
ترجمان لین جیان نے یہ بات اپنی معمول کی پریس بریفنگ میں افغانستان میں 31 اگست کو آنے والے زلزلے کے حوالے سے چین کے ردعمل کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ چین اس زلزلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا قریبی جائزہ لے رہا ہے۔ یکم ستمبر کو چینی صدر شی جن پھنگ نے تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) پلس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے زلزلے میں ہونے والے انسانی جانوں کے نقصان پر سخت افسوس کا اظہار کیا تھا اور متاثرہ علاقوں کے ان افراد کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا جنہوں نے اس آفت میں اپنے پیاروں کو کھویا۔ چینی صدر نے توقع کا اظہار کیا کہ افغان حکومت اور عوام اس مشکل وقت سے باہر نکلیں گے اور جلد ہی اپنے گھروں کو دوبارہ آباد کریں گے۔
ترجمان نے کہا کہ امدادی سامان کی پہلی کھیپ ہوائی جہاز کے ذریعے اتوار کو کابل پہنچ گئی ہے جبکہ دیگر سامان آنے والے دنوں میں افغانستان پہنچا دیا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ چینی سفارت خانے، چینی اداروں اور افغانستان میں مقیم اوورسیز چینی ایسوسی ایشن نے امدادی فنڈز اور سامان جمع کرکے عطیہ کیا ہے، چین کی ہلال احمرسوسائٹی نے بھی افغان ہلال احمر کو نقد امداد فراہم کی۔




